
آغاز کلام اس رب کریم کے ذکر سے کہ جو ربُ العالمین ہے۔
اور ہزاروں لاکھوں درود و سلام اس نبی محترم پر کہ جو رحمت اللعالمین ہیں۔
آج کی یہ تحریر اس صدر نشینِ بزم کونین کے نام ہے کہ جن کے قبۂ اطہر اور گنبد انور کی رِفعتیں عرش سے ملتی ہیں۔ جن کو ربِ کائنات نے اعلیٰ اوصاف، پسندیدہ صفات، بہترین اخلاق اور بے شمار شمائل و فضائل سےنوازا، سرِاقدس پرمحبوبیت کبریٰ کا تاج رکھا، جن کے طفیل ساری کائنات کو تخلیق کیا۔ جن پر درود و سلام پڑھنے کو مصائب و آلام سے نجات کا ذریعہ بنایا۔ جن سے سچی محبت و اطاعت کے بغیر ایمان کی منزل پانے سے قاصر قرار دیا اور جن کے خزانۂ احسان سے انسان کو جسم و روح کی ہر غذا اور ہر دوا عطا فرمائی۔
عقیدہ کی تعریف
عقیدہ درحقیقت اُس یقینِ کامل کا نام ہے جو دل کی گہرائیوں میں اس طرح راسخ ہو جائے کہ اس کے مقابل کسی شک، شبہے، تردد یا اضطراب کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ ایسا یقین جو محض ذہنی تصور نہ ہو بلکہ قلب و باطن میں اس طرح پیوست ہو جائے کہ انسان کی فکر، اس کا مزاج، اس کا طرزِ عمل اور اس کی پوری زندگی اسی کے گرد گردش کرنے لگے۔
اگر اس حقیقت کو مزید وسعتِ نظر کے ساتھ بیان کیا جائے تو عقیدہ کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے:
’’عقیدہ وہ پختہ یقین ہے جو عقل کو مطمئن کرے، دل کو منور کرے اور ارادے کو مضبوط بنا دے۔ جسے انسان دلیل کے ساتھ قبول کرے، ثابت قدمی کے ساتھ اس پر قائم رہے اور جس میں کسی درجے میں بھی تزلزل، کمزوری یا پس و پیش کی کیفیت پیدا نہ ہو۔‘‘
عقیدۂ ختمِ نبوّت :
الحمدللہ ہم مسلمان ہیں ہم ایک اللہ کو اس کے تمام نبیوں اور اس کی نازل کی ہوئی تمام کتابوں اور روز قیامت کو ماننے والے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ محمّد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور قرآن اللہ کی آخری کتاب ہے۔
ہمارا کلمہ ہے:
لاَ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ
اللہ کےسواکوئی عبادت کےلائق نہیں اورمحمد (ﷺ) اللہ کےرسول ہیں۔
اس کلمۂ طیّبہ کو پڑھ کر ہم اپنی زبان سے جہاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہیں وہیں
رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار بھی اس مقدس کلمے کا لازمی جز ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب ہم نے اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرلیا اور اسی کی عبادت کرنے کو ایمان بنالیا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ کی کتاب اور اس میں آنے والے احکامات سے اجتناب برتا جائے اورکسی ایک حکم یا بتائی گئی کسی ایک بات کو بھی من و عن تسلیم نہ کیا جائے۔ بالکل اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار تو کیا جائے مگر آپ ﷺ کے فرمودات عالی شان، احادیث مبارکہ ، فضائل و شمائل محمودہ، رتبہ و منزلت اور منصبِ ختم المرسلین کو تسلیم نہ کیا جائے اور حضور اقدس ﷺ کی ذات ذیشان ایک الگ خانے میں رکھ کر اپنی مرضی کی باتیں گڑھ لی جائیں۔ یقیناً ایسا شخص یا گروہ جو اللہ کے احکامات کے برخلاف اور حضور ﷺ کے منصب قدسی کے دوسری جانب کھڑا ہو وہ ایمان سے خارج ہی مانا جائے گا۔ کیوں کہ جس طرح مسلمان ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ کو اس کی تمام صفات کے ساتھ ماننا ضروری ہے بالکل اسی طرح حضور، سرورِ کونین ﷺ کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئیں تمام صفات و مناصب کے ساتھ اللہ کا نبی ماننا بھی ضروری ہے۔
“ خاتم النبین ہمارے آقا و مولا، نبیٔ محتشم، امام النبیأ، محبوب رب، رحمت اللعالمین ،حضور اکرم، حضرت محمّد ﷺ کا منصبِ خصوصی ہے۔”
حضور ﷺ کو خاتم النبین ماننا عقیدۂ ختم نبوّت کہلاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیأ اور پیغمبر بھیجے مگر خاتمِ نبوّت کا عظیم ترین تاج اللہ ربّ العزّت نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے سرِ انور پر رکھا اور آپ ﷺ ہی پر سلسلۂ نبوت و رسالت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ یہ عقیدہ اسلام کی اساس، ایمان کا جزوِ لازم اور مسلمانوں کی شناخت کا اہم ترین ستون ہے۔ حضور ﷺ کے ختم النبیین ہونے پر بے شمار قرآنی آیات اور احادیث موجود ہیں مگر طوالتِ متن نہ ہو اس لیے یہاں صرف دو قرآنی آیات اور ایک حدیث پیش کی جارہی ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٍۢ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّنَ
ترجمہ : محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے خاتم ہیں۔
یہ آیت صاف، واضح اور قطعی ثبوت ہے کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
دوسری جگہ سورۃ المائدہ، آیت 3 میں ارشاد ہوتا ہے:
ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى
ترجمہ : آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تمام کر دی۔
دین کی تکمیل کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ آپ ﷺ کی شریعت کامل اور ابدی ہے، جس کے بعد کسی نئے نبی یا نئی شریعت کی ضرورت باقی نہیں ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں ختمِ نبوت
حدیث : صحیح بخاری
أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
ترجمہ : میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
عقیدۂ ختمِ نبوّت امّت کا اجماعی عقیدہ ہےاور اس سے انکار کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اس عقیدے کی حفاظت اور پرچار کرنے کے لیے ہمارے اسلاف نے اپنی جانیں قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ صحابہ کرام نے جھوٹے مدعیان نبوّت کے خلاف خوں ریز جنگیں لڑیں شہادتیں بھی پائیں مگر ان کا قلعہ قمع کیے بغیر پیچھے نہ ہٹے۔ تو کیا آج استاد ہونے کے ناطے اپنی آنے والی نسل تک اس عقیدے کو صحیح معنٰی میں پہنچانا ہماری ذمہ داری نہیں ہے؟
عقیدۂ ختمِ نبوت کی تدریس ہر استاد کے لیےنئے سال 2027 کی اہم ترجیح ہونا چاہیے:
نیا سال ہمیشہ نئی ترجیحات، نئے اہداف اور بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں یہ وقت سالانہ پالیسیوں، تربیتی پروگراموں اور تدریسی اہداف کے نئے خطوط طے کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال نہایت اہمیت رکھتا ہے کہ ایک استاد کی پہلی ترجیح کیا ہونی چاہیے؟
اگر ہم اپنے ملک، معاشرے اور نسلِ نو کی فکری و ایمانی بنیادوں کو سامنے رکھیں، تو 2027 کے لیے ہر استاد کی سب سے اہم قرار داد یہ ہونی چاہیے کہ:
“عقیدہ ختمِ نبوت کی تعلیم و ترویج اور اس کی حفاظت میری تدریسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔”
ختمِ نبوت : ایمان کا بنیادی ستون
عقیدہ ختمِ نبوت محض ایک فقہی یا تاریخی موضوع نہیں، بلکہ یہ ایمان کی اساس اور ایک مسلمان کی شناخت کا بنیادی جز ہے۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے ساتھ رسالت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جانا، وہ عقیدہ ہے جس سے دینِ اسلام کی تکمیل ہوئی اور امّت مسلمہ کو استحکام بخشا گیا۔ اسی عقیدے نے امت کو فکری و عملی رہنمائی کا آخری معیار دیا۔
ایک استاد جب اپنے طلبہ کی تربیت کرتا ہے، تو وہ صرف سائنس، ریاضی یا زبان نہیں سکھا رہا ہوتا بلکہ وہ ان کے ذہن، کردار اور عقیدہ کی تشکیل کر رہا ہوتا ہے۔ اور عقیدۂ ختمِ نبوّت اس تشکیل کا سب سے مضبوط ستون ہے۔
نئی نسل کو اس عقیدے کی کیوں ضرورت ہے؟
آج کے پرفتن دور میں سوشل میڈیا کی یلغار معصوم نا پختہ ذہنوں کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ بیرونی اور اسلام دشمن طاقتیں اپنے طاغوتی نظریات کا پرچار کر رہی ہیں، اور دوسری طرف قادیانی اور دیگر منکرین نبوّت اپنے افکار کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کھلے عام اور زور و شور سےکر رہے ہیں۔ اسلام دشمن اور مسلمان دشمن طاقتوں کی پوری کوشش ہے کہ نوجوانوں کے کچے ذہنوں میں ایمانی کمزوری اور لغزش پیدا کر کے انہیں عقیدۂ ختم نبوّت اور اسلام سے دور کر دیا جائے تاکہ انہیں احیأ اسلام اور جہادی فکر کے خلاف استعمال کیا جاسکے۔ نعوذ و باللہ من ذالک۔
ایسے میں وہی نسل محفوظ رہ سکتی ہے جسے بنیادی عقائد واضح، دلیل کے ساتھ اور مضبوط بنیادوں پر سکھائے جائیں۔ لہذٰا خصوصاً اساتذہ اور عموماً والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ نسل نو کے ایمان کی حفاظت کی خاطر ان کچے اذہان میں دین اسلام کی آفاقیت، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور پیارے آقا حضرت محمّد ﷺ کے ختم المرتبت ہونے کی قندیلیں روشن کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔
استاد کا کردار — صرف تدریس نہیں، حفاظت بھی
جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں
ایک استاد یعنی معلم ہونا صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ یہ پیغمبرانہ صفات کا حامل رتبہ ہے۔ ابن ماجہ سے روایت شدہ حدیث ہے۔
إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا ترجمہ: بے شک مجھے معلم (استاد) بنا کر بھیجا گیا ہے۔
اس حوالے سے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایک استاد کی ذمہ داری صرف تعلیم دینا نہیں بلکہ دین سکھا نا بھی استاد کی بنیا دی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔ استاد نسلِ نو کی عقلی، اخلاقی اور ایمانی نگرانی بھی کرتا ہے۔ کیوں کہ ذہن سازی اور نظریاتی پختگی دینے میں استاد ہی سب سے اہم ہے۔ استاد وہ شخصیت ہے جو کسی بھی کتاب، نصاب، نوٹس، اور لیکچر سے زیادہ طلبأ کے ذہنوں کو متاثر کرتا ہے۔ استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا بلکہ ذہن بناتا ہے، نظریہ دیتا ہے، ایمان سمجھاتا ہے، اور کردارسازی کرتا ہے۔
نئے سال 2027 میں ہر استاد یہ عزم کرے کہ:
- میں عقیدہ ختمِ نبوت کو صرف پڑھاؤں گا نہیں، سمجھاؤں گا۔
- میں اس موضوع کو صرف مذہبی نہیں، تعلیمی اہمیت کے ساتھ پیش کروں گا۔
- میں سیرت النبی ﷺ کے ذریعے طلبہ کے ذہنوں میں محبت و عقیدت کو راسخ کروں گا۔
- میں گمراہ نظریات کے جوابات مہذب، منطقی اور علمی انداز میں دوں گا۔
- میں طلبہ کے ذہنوں میں سوال پیدا ہونے پر انہیں رہنمائی فراہم کروں گا۔
- میں علمی گفتگو سکھاؤں گا۔
- میں فتنوں سے آگاہی دوں گا۔
ان شأ اللہ عزوجل یہ عزم استاد کو تعلیمی رہنما کے ساتھ ساتھ فکری محافظ بھی بنا دے گا۔
2027 ایک فیصلہ کن سال کیوں؟
ہم ایک ایسے دورے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں: مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل میڈیا، اور نظریاتی آزاد خیالی نوجوان اور نا پختہ ذہنوں کو اپنی گرفت میں لینے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے اس سال کے آغاز پر یہ قرار داد پہلے سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔
اختتامیہ:
اگر ہم چاہیں کہ ہمارا معاشرہ علمی بھی ہو اور ایمانی بھی، جدید بھی ہو اور مستحکم بھی، تو ہمیں ختمِ نبوّت کے عقیدے کو اپنے تعلیمی نظام کا بنیادی محور بنانا ہوگا۔
اساتذہ اور والدین کو اپنی:
“ نسلِ نو کو ختمِ نبوت کا عقیدہ پڑھانے، سمجھانے اور بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔”
یہ صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایمان، ذمہ داری، اور تربیت کا مکمل منشور ہے۔
اگر ہم اس عزم کے ساتھ نئے سال کا آغاز کریں، تو ان شاء اللہ 2027 ہماری تعلیمی تاریخ میں ایک مضبوط بنیاد بن سکتا ہے۔
ٹیچرز آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم پر اور ہماری اس ویب سائٹ پر نہ صرف اساتذہ بلکہ والدین اور اسٹوڈینٹس کے لیے عقیدۂ ختم نبوّت سے طلبأ و طالبات کو روشناس کرانے اور ان کے دلوں کو نورِ مصطفٰوی سے منور کرنے کے لیے مواد فراہم کیا جاتا ہے۔ ٹیچرز آرگنائزیشن اساتذہ کو معلومات، اور عقیدۂ ختم نبوّت سکھانے کی تیکنیکی تربیت دینے کے لیے اسکولوں میں جاکر ورکشاپس بھی منعقد کرواتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہماری آپ کی اور تمام پڑھنے والوں کی عقیدۂ ختم نبوّت کی حفاظت کے لیے کی جانے والی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ہم سب کو اس کا اجر عطا فرمائے۔
آمین یا ربَّ العالمین
تحریر کردہ
سید نظام الدین

